سب کی نگاہ رہتی ہے ان پر لگی ہوئی
خوشبو بدن پہ جنکے ہو اکثر لگی ہوئی
ہم نے تو بس نقاب اتارا تھا جھوٹ سے
تلوار ہے ہمارے ہی سرپر لگی ہوئی
سچ کو چھپا دیا ہے جی دولت کے ڈھیر میں
چادر ہے آئینے کے بھی رخ پر لگی ہوئی
سونے کی قبر میں جو محبت کی لاش ہے
کافور کی جگہ پہ ہے کیسر لگی ہوئی
انصاف، کیا عدالتیں، کیا جج، وکیل کیا
سب کی زباں پہ چپ سی ہیں یکسر لگی ہوئی
اشعار سے ہمارے کیوں چڑھ گئے جناپ
ہم کو تو بس ہے وقت سے ٹھوکر لگی ہوئی
مانا کہ دور میں سہی دل سے قریب ہوں
رہتی ہے یاد آپ کی دلبر لگی ہوئی
ثروت محبتوں کا صلہ یہ ملا ہمیں
ہر سانس ہے ہماری یوں دم پر لگی ہوئی
ثروت دولتپوری کٹیہار بہار
Seyad faizul murad
10-Sep-2022 04:35 PM
بہت خوب واااہ وااہ
Reply